Saturday, 15 November 2014

اٹھائی گیر تھا وہ عزرائیل تھا ہی نہیں

اٹھائی گیر تھا، وہ عزرائیلؑ تھا ہی نہیں 

(اپنی اہلیہ کی پانچویں برسی کے دن لکھی گئی نظم)

 میں نصف جان لیے جی رہا ہوں مدت سے
 کہاں تو ربط تھا، ادغام تھا رگ و پے میں
 کہاں یہ حال ہے اب بکھرا بکھرا رہتا ہوں
 وہ کاملیت و وحدت، سوادِ اعظمِ کُل
 نہیں رہے کہ میں اب لخت لخت پھرتا ہوں

 میں لِیر لِیر سا، اک قطع دائرہ سا جزو
 پرخچوں میں بٹا ہوں، ورَق ورَق سا کیوں؟
 کچھ ایک سال ہوئے، میں بھی تھا تمام و کامل
 کہ اپنے آپ میں کامل تھا، ثابت و سالم
 اٹُوٹ، اَن بٹا، اک شخص، خود میں واحد و کُل
 پھر ایک دن کسی رہزن نے میرا نصف وجود
 جھپٹ کے چھین لیا مجھ سے ایک لمحے میں
 کہا کہ اس کو تو مُلکِ عدم کو جانا ہے
 تم اپنے آپ میں زندہ رہو، رہو نہ رہو
کہاں کی مرگِ مفاجات، کیسا صدمۂ جاں؟
 یہ کیسا کوچ، کہاں کا بلاوا، کیسا وصال؟
 بھلا کبھی کسی انساں کا نصف حصہ بھی
 غریقِ رحمتِ پروردگار ہوتا ہے؟
 اٹھائی گیر تھا، و ہ عزرائیلؑ تھا ہی نہیں
جو نصف جان مِری لے گیا ہے دھوکے سے 

ستیہ پال آنند

No comments:

Post a Comment