Saturday, 15 November 2014

سوالوں کے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں

سوالوں کے پرندے

 سوالوں کے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں
 کہیں گہرے کنوؤں، تاریک غاروں میں
 میں ان کو چھو نہیں سکتا
کہ میں بھی تو انہیں تاریک گہرائیوں کا باسی ہوں
 کبھی اک جسم تھا، اب آتما ہوں
سوالوں کو چھوؤں کیسے؟
 کہ میری انگلیاں اب موم بتیاں ہیں
 کہ جو شعلوں کی ننھی ٹوپیاں پہنے
 فقط اب ٹمٹما سکتی ہیں غاروں کے اندھیروں میں
 یہ اپنی لمس کی حساسیت کو کھو چکی ہیں ایک مدت سے
مِرے چہرے پہ جو اک داستاں لکھی گئی تھی
 میری اپنی انگلیوں کے لمس سے
 اس کے سبھی اوراق ان تاریکیوں میں کھو گئے ہیں
 ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتے
مِری آنکھوں میں ان سارے جوابوں کے
 جنہیں میں نے خود اپنے آپ کو دینا تھا
 جگتے، جاگتے، اُڑتے ہوئے جگنو
 خود اپنی آگ میں اب جل چکے ہیں
 اور بینائی کے عالم میں
 کھلی آنکھیں بھی جیسے بجھ گئی ہیں
سوالوں کے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں

ستیہ پال آنند

No comments:

Post a Comment