Saturday, 8 October 2016

ریت گھڑی

ریت گھڑی

کس سے پوچھوں
اک ٹوٹے تارے کی طرح ہوا میں جل کر
میرے دھرتی پر گِرنے کے بعد بھلا کوئی پوچھے گا
کون شخص تھا؟
کیا کچھ برسوں بعد بھی مجھ کو یاد کریں گے
ان نظموں کے پڑھنے والے
شاید میرا نام کسی گلدان میں رکھے
سوکھے گلدستے سا
پھولوں کی خوشبو کی یاد دلاتا
رہ جاۓ حسّاس دلوں میں
شاید کوئی یاد کرے اس قوسِ قزح کو
جو لہراتی تھی ان نظموں کو پڑھنے پر
کچھ لوگوں کی سوچوں کے تاریک افق پر
شاید کوئی استعجاب کے لہجے میں یہ بھی پوچھے گا
کیسا شخص تھا
جس نے خشک بیاباں میں پانی کے چشمے
اپنے پیچھے آنے والے
پیاسے صحرا گردوں کی خاطر ڈھونڈھے تھے
وہم ہے ایسی سوچ، مِرا "میں" یہ کہتا ہے
شہرت اور دوام میں کچھ بھی ربط نہیں ہے
ریت کے ذروں کے گِرنے کی مہلت تک ہی
مشہوری بس ایک گھڑی ہے

ستیہ پال آنند

No comments:

Post a Comment