Saturday, 5 February 2022

ہر قدم پہ سیکھتی ہوں زندگی سے جینا میں

 ہر قدم پہ سیکھتی ہوں زندگی سے جینا میں

اور پھر بناتی ہوں انگلیوں سے زینہ میں

ٹوٹ کر بکھر نے سے کس قدر میں ڈرتی ہوں

وہ ہے ایک پتھر سا اور آبگینہ میں

ڈ ھلتی عمر میں اک دن فرض کر کے دیکھو تو

تم ہو خوبرو عاشق اور اک حسینہ میں

ہر زباں پہ ٹہرے ہیں یوں مثال لوگوں میں

جیسے کہ انگوٹھی تو اور تیرا نگینہ میں

موج میں سمندر تھا ایک دم یہ کیا ہوا

چھوڑ کر چلی آئی دشت میں سفینہ میں

مجھ کو اچھا لگتا ہے تو محل کے راجہ سے

پونچھتی ہوں آنچل سے جب تیرا پسینہ میں


آئرین فرحت

No comments:

Post a Comment