ہر قدم پہ سیکھتی ہوں زندگی سے جینا میں
اور پھر بناتی ہوں انگلیوں سے زینہ میں
ٹوٹ کر بکھر نے سے کس قدر میں ڈرتی ہوں
وہ ہے ایک پتھر سا اور آبگینہ میں
ڈ ھلتی عمر میں اک دن فرض کر کے دیکھو تو
تم ہو خوبرو عاشق اور اک حسینہ میں
ہر زباں پہ ٹہرے ہیں یوں مثال لوگوں میں
جیسے کہ انگوٹھی تو اور تیرا نگینہ میں
موج میں سمندر تھا ایک دم یہ کیا ہوا
چھوڑ کر چلی آئی دشت میں سفینہ میں
مجھ کو اچھا لگتا ہے تو محل کے راجہ سے
پونچھتی ہوں آنچل سے جب تیرا پسینہ میں
آئرین فرحت
No comments:
Post a Comment