Saturday, 5 February 2022

اب تمہاری ضرورت نہیں ہے ہمیں

 اب تمہاری ضرورت نہیں ہے ہمیں


بھیڑیں گلے میں رہتی ہیں جس طرح سے

بھیڑ بن کر رہو

اور کچھ نہ کہو

منمناتے رہو

نت نئے فرقے ہر دن بنا کر جیو

روز تازہ نیا فتویٰ جاری کرو

سنگباری کرو، آہ و زاری کرو

مسجدوں کو کرو مسلکی شان سے

ٹوپیاں، پگڑیاں، صافے سبھی مختلف 

انفرادی لگو دوسرے لوگوں سے

فرقۂ ناجیہ والے بس ایک تم 

باقی سب 

سارے کافر ہیں، گستاخ ہیں بے ادب 

بن کے سنی، وہابی و اہلحدیث

پارہ پارہ کرو قوم کا اتحاد

ذات میں اور علاقوں میں بھی بانٹ کر

اونچ اور نیچ کی کھائی چوڑی کرو

بات بے بات پکڑو گریبان تم

قتل بھائی کا کر دو یا خود ہی مرو

خوب جلسے کرو، اور نکالو جلوس 

اور جی بھر کے دو گالیاں ہر گھڑی

مال رکھو، مگر دو نہ ہرگز زکوٰۃ

درگزر صلہ رحمی سے کیا واسطہ

ہر خباثت سے لپٹو، لگاو گلے

ہاں زمیں کو کھسکنے دو پیروں تلے

شِرک اور بِدعتوں کے پجاری بنو

تم مداری بنو، اپنی ہی قوم میں

اتنے تقسیم ہو جاؤ کہ ایک دن 

تنہا دشمن کہے؛ رُک، ابھی آتا ہوں

لوٹ کر آئے اور قتل کر دے تمہیں 

بھاگنے کے بھی قابل نہ چھوڑے کہیں

یہ فروعی مسائل، یہ بحثیں سبھی

فتوے بازی، یہ تکراریں اور حجتیں

سب دھری رہنے والی ہے تم دیکھنا

ان گنت اب ہلاکو ہیں ہر شہر میں 

اب لپیٹے نہیں جاؤ گے نمدوں میں 

بیچ چوراہے پہ قتل ہو جاؤ گے

قتل ہونے سے پہلے صدا آئے گی

اب تمہاری ضرورت نہیں ہے ہمیں 


دلشاد نظمی

No comments:

Post a Comment