Saturday, 5 February 2022

سوال کس خوشی کے لیے جشن برپا کریں

 سوال


کس خوشی کے لیے جشن برپا کریں؟

دل میں مدھم کریں کون سے غم کی لو؟

خاک پر مسکراتے چمکتے ہوئے منظروں سے پرے

وقت کے بام و در پر جو لکھی ہوئی ہے

لہو سے بھری داستاں

کیسے ہوتا رہا

ہر قدم پر یہاں

زندگی کا زیاں

کیا اذیت طلب راستے تھے

جہاں سے گزرتے رہے

بے خبر کارواں

ہو سکے تو پلٹ کر ذرا پشت پر دیکھئے

کس قدر خوف تھا ہر طرف

کتنے پُر ہول تھے روز و شب

ایک اک لمحہ ہوتا تھا خنجر بکف

جنگلوں میں درندوں کے رحم و کرم پر

برہنہ بدن سب کے سب

موت سے مسکرا کے ملاتی رہی

اک شکم کی طلب

سفر کا یہ آغاز تھا

اپنے انجام سے بے خبر

ہم لہو کے سمندر میں ہیں آج تک

اور کنارا دکھائی نہیں دے رہا

ہر طرف تیرگی اسقدر ہے کہ

کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا

اب بتائے کوئی کیا کریں؟

دل میں مدھم کریں کون سے غم کی لو؟

کس خوشی کے لیے جشن برپا کریں؟


احمد امتیاز

No comments:

Post a Comment