وہ ہی اک دشت جو گلزار ہوا کرتا تھا
اس کی رعنائی کو شاید کہ نظر لگ گئی ہے
اب وہاں سے جو گزرتا ہے گزر جاتا ہے
اب وہاں پہلے سے دلدادہ حسیں لوگ نہیں
تم بھی گزرے تھے کسی دور میں اس صحرا سے
اور پھر دشت کو گلزار کا رتبہ ملا تھا
ایک عرصہ تو وہاں جشن منائے گئے تھے
لوگ سمجھے تھے کہ تو پھر بھی گزرتا رہے گا
کس کو معلوم تھا تو کس کے تعاقب میں تھا
کہ بہت دور بہت دور کہیں نکل گیا
یہ خبر دشت میں پہنچی تو بچھی فرشِ عزا
اور تِرے نقشِ قدم گھیر کے ماتم کیا گیا
اور وہ جشن اسی روز ختم ہو گئے تھے
خشک اور زردی بھرے چہرے لیے لوگ سبھی
پھر سے رنجور ہواؤں کی طرف لوٹ گئے
میں فقط ایک تِری راہ سے اٹھ نا پایا
اور ہر آتے ہوئے شخص کو بتلاتا ہوں
تُو دکھائی دے اگر تو تجھے کہتے جائیں
ایک بار اور کہیں گزرو کہ ویراں ہے بہت
وہ ہی اک دشت جو گلزار ہوا کرتا تھا
حسن رضا
No comments:
Post a Comment