Saturday, 5 February 2022

وہ ہی اک دشت جو گلزار ہوا کرتا تھا

 وہ ہی اک دشت جو گلزار ہوا کرتا تھا


اس کی رعنائی کو شاید کہ نظر لگ گئی ہے

اب وہاں سے جو گزرتا ہے گزر جاتا ہے

اب وہاں پہلے سے دلدادہ حسیں لوگ نہیں

تم بھی گزرے تھے کسی دور میں اس صحرا سے

اور پھر دشت کو گلزار کا رتبہ ملا تھا

ایک عرصہ تو وہاں جشن منائے گئے تھے

لوگ سمجھے تھے کہ تو پھر بھی گزرتا رہے گا

کس کو معلوم تھا تو کس کے تعاقب میں تھا

کہ بہت دور بہت دور کہیں نکل گیا

یہ خبر دشت میں پہنچی تو بچھی فرشِ عزا

اور تِرے نقشِ قدم گھیر کے ماتم کیا گیا

اور وہ جشن اسی روز ختم ہو گئے تھے

خشک اور زردی بھرے چہرے لیے لوگ سبھی

پھر سے رنجور ہواؤں کی طرف لوٹ گئے

میں فقط ایک تِری راہ سے اٹھ نا پایا

اور ہر آتے ہوئے شخص کو بتلاتا ہوں

تُو دکھائی دے اگر تو تجھے کہتے جائیں

ایک بار اور کہیں گزرو کہ ویراں ہے بہت

وہ ہی اک دشت جو گلزار ہوا کرتا تھا


حسن رضا

No comments:

Post a Comment