Saturday, 5 February 2022

درد کا بوجھ ترے شہر سے لائے ہوئے لوگ

 درد کا بوجھ تِرے شہر سے لائے ہوئے لوگ

اب کہاں جائیں یہ زخموں کو سجائے ہوئے لوگ

ہیں اس آسیب کے ہر رُوپ سے انجان ابھی

یہ جو ہیں عشق حقیقت کو بُھلائے ہوئے لوگ

کون کہتا ہے کہ زندہ ہیں، بظاہر زندہ؟

رُوح کا بوجھ بدن میں ہی اُٹھائے ہوئے لوگ

بنتے جاتے ہیں یہ تصویر گئے وقتوں کی

ہجر کے روگ کو سینے سے لگائے ہوئے لوگ

وہ جو کُٹیا تھی، جہاں عشق بسیرا تھا کبھی

وحشتوں کے ہیں وہاں اب تو ستائے ہوئے لوگ

ہیں یہی جن سے سلامت ہے محبت کا وجود

پھول پتھر میں وفاﺅں کے کِھلائے ہوئے لوگ

حال پوچھو نہ کبھی بچھڑے دلوں کا شاہیں

اپنے لاشوں کو ہیں شانوں پہ اُٹھائے ہوئے لوگ


نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment