دامن دریدہ، سر بُریدہ لوگ ہیں
ہمیں نہ سمجھ کہ ہم پیچیدہ لوگ ہیں
ہماری ہے پہنچ عرش فرش کے مالک تک
ناز ہے ہمیں کہ ہم شنیدہ لوگ ہیں
ہوئی ہے عطا ہمیں نوع انسان کی رہبری
قابل تکریم ہیں ہم، ہم چُنیدہ لوگ ہیں
ٹوٹنا ہے ازل سے ہماری فطرت جھکنا نہیں
ہم سے اے زماں نہ ٹکرا، ہم کشیدہ لوگ ہیں
ہوئی ہے نمو ہماری علم و عرفاں کے گہوارے
فخر ہے ہمیں کہ ہم بالیدہ لوگ ہیں
نہیں گزر ظرافت کا ان کی محفل میں شہزاد
ذرا خیال کہ ہمسفر تیرے سنجیدہ لوگ ہیں
شہزاد حیدر
No comments:
Post a Comment