Thursday, 1 April 2021

گل آج گلستاں میں نکھر جائے تو اچھا

 گل آج گلستاں میں نِکھر جائے تو اچھا

صحراؤں میں آ کر نہ بِکھر جائے تو اچھا

ہر دور میں فرعون نے ہونا ہے جو پیدا

موسیٰ بھی کوئی نِیل سفر جائے تو اچھا

ہر بار غمِ ہجر میں عشّاق جلے ہیں

یہ غم کبھی معشوق نگر جائے تو اچھا

منزل کی طلب ہےنہ مجھےآپ کی چاہت

بس ساتھ مِرے میرا سفر جائے تو اچھا

اُس پار اُتر جانا ہو کشتی کا مقدر

چڑھتا یہ بھنور آج اُتر جائے تو اچھا

جو حال ہے قاصد سے کہو یار سے کہہ دے

ان تک بھی ذرا میری خبر جائے تو اچھا

ہر بار سرِ راہ سِتم گر بھی پکارے

شہزاد بھی وعدوں سے مُکر جائے تو اچھا


شہزاد حیدر

No comments:

Post a Comment