Thursday, 1 April 2021

تمہی سے گفتگو کا اک ذریعہ ہے

 تمہی سے گفتگو کا اک ذریعہ ہے

محبت آرزو کا اک ذریعہ ہے

جسے تم لوگ روشندان کہتے ہو

خدا سے گفتگو کا اک ذریعہ ہے

پلٹ آتے ہیں زینے پر جو ہم جا کر

ادھوری جستجو کا اک ذریعہ ہے

مِرے چہرے پہ تیرا پھونکتے رہنا

میاں میرے وضو کا اک ذریعہ ہے

جسے ڈھلوان کہتے ہیں سبھی توحید

یہ بہتی آب جُو کا اک ذریعہ ہے


توحید زیب

No comments:

Post a Comment