اب جو بھی یہ در کھٹکائے اس کو در کھٹکانے دو
اور جو دل سے جانا چاہے اس کو فوراً جانے دو
اپنی محبت سولہ آنے تھی، سو اب تک باقی ہے
اس کی محبت کے کیا کہنے جس کی قیمت آنے دو
تم نے ہم کو چھوڑ دیا تو اب کیوں پیچھا کرتے ہو
جتنی تھی بربادی ہو گئی، اب ہم کو پچھتانے دو
دوست! ہمارا دل ٹوٹا ہے، کیوں ہم کو بہلاتے ہو
آنسو ہم کو پی لینے دو رنج و غم بس کھانے دو
دو جمعوں کی بات نہیں اپنا رشتہ تھا صدیوں کا
بے شک ایک صدی نہ دو پر کچھ تو سوگ منانے دو
مرگ کے بستر سے اُٹھے ہیں زہرا ہم کو نہ ٹوکو
اپنی ہر اک نادانی پہ ہنسنے، شور مچانے دو
عروج زہرا زیدی
No comments:
Post a Comment