چلو دیکھ آئیں عدم کچھ نہ کچھ
ذرا دیر کو ہوں بہم کچھ نہ کچھ
اُڑا لائیں ہونٹوں سے شادابیاں
چُرا لائیں زُلفوں سے خم کچھ نہ کچھ
ہمیں ایک سجدے کی ہے جستجو
کہ رہ جائے اپنا بھرم کچھ نہ کچھ
کبھی تو وہ ڈالے گا ہم پر نظر
کرے گا وہ ہم پر کرم کچھ نہ کچھ
جو کم ہے زیادہ کرے گا ضرور
زیادہ کرے گا وہ کم کچھ نہ کچھ
مِرے سامنے بھی عیاں ہے جہاں
مِرے جام میں بھی ہے جم کچھ نہ کچھ
نئے شعر ہم بھی کہیں گے کبھی
چلے گا ہمارا قلم کچھ نہ کچھ
ضیا الحسن
No comments:
Post a Comment