Monday, 22 March 2021

وفاؤں کو میری تم دھیان میں رکھنا

 وفاؤں کو میری تم دھیان میں رکھنا

جو بچھڑو تو ملنا پھر امکان میں رکھنا

بعد تیرے لوگ یوں میرے دل میں آئے

کرایہ دار کوئی جیسے خالی میں مکان میں رکھنا

جانے سیکھی کہاں سے مِرے دل نے سوداگری

نفع سب اس کا، ہمیشہ خود کو نقصان میں رکھنا

ہجر تو تیرا اب  طے ہی ہو چکا مگر جاناں

تیرا لوٹنا بھی تو ہمیں ہے گمان میں رکھنا

سیکھا کہاں سے تم نے یہ طرزِ تکلم شہزاد

غزل اسے کرنا، خود کو عنوان میں رکھنا


شہزاد حیدر

No comments:

Post a Comment