وفاؤں کو میری تم دھیان میں رکھنا
جو بچھڑو تو ملنا پھر امکان میں رکھنا
بعد تیرے لوگ یوں میرے دل میں آئے
کرایہ دار کوئی جیسے خالی میں مکان میں رکھنا
جانے سیکھی کہاں سے مِرے دل نے سوداگری
نفع سب اس کا، ہمیشہ خود کو نقصان میں رکھنا
ہجر تو تیرا اب طے ہی ہو چکا مگر جاناں
تیرا لوٹنا بھی تو ہمیں ہے گمان میں رکھنا
سیکھا کہاں سے تم نے یہ طرزِ تکلم شہزاد
غزل اسے کرنا، خود کو عنوان میں رکھنا
شہزاد حیدر
No comments:
Post a Comment