Sunday, 25 December 2016

تنظیم چمن کے عزم وہ سب وہ قول وہ پیماں بھول گئے

تنظیم چمن کے عزم وہ سب، وہ قول وہ پیماں بھول گئے
جو قبلِ بہاراں لب پر تھے، ہنگامِ بہاراں بھول گئے
ہر سو وہ ہراس و دہشت ہے اپنوں کو بھی انساں بھول گئے
دل رسمِ محبت بھول گئے، شاعر غمِ جاناں بھول گئے
پھولوں میں نہیں وہ خندہ لبی، نکہت نفسی، شبنم دہنی
وہ دورِ سموم و برق آیا، تہذیبِ گلستاں بھول گئے
زخمی کی جاں کی فکر نہیں، اور جامہ دری پر حشر بپا
یہ چاکِ گریباں پر نالاں، چاکِ دلِ انساں بھول گئے
لبریز فقط جام اپنوں کے، اروں کے لیے قطرہ بھی نہیں
مۓ بانٹنے والے محفل کے، کیا جرأتِ رِنداں بھال گئے
بیمارئ انساں کم نہ ہوئی جتنے بھی طبیب آئے اب تک
یا جسمِ انساں بھول گئے، یا روحِ انساں بھول گئے
دنیا نے کسے کب یاد رکھا، نظروں سے ہٹا تو دل سے مٹا
ملاؔ تُو کسی گنتی میں نہ تھا، مجنوں کو بیاباں بھول گئے

آنند نرائن ملا

No comments:

Post a Comment