جھجک، اظہارِ ارماں کی بہ آسانی نہیں جاتی
خود اپنے شوق کی دل سے پشیمانی نہیں جاتی
تڑپ شیشے کے ٹکڑے بھی اڑا لیتے ہیں ہیرے کی
محبت کی نظر جلدی سے پہچانی نہیں جاتی
کسی کے لطفِ بے پایاں نے کچھ یوں سوۓ دل دیکھا
یہ بزم دیر و کعبہ ہے نہیں کچھ صحن مۓ خانہ
ذرا آواز گونجی،۔ اور پہچانی نہیں جاتی
نظر جھوٹی، شباب اندھا، وہ حسن اک نقشِ فانی ہے
حقیقت ہے تو ہو، لیکن ابھی مانی نہیں جاتی
نظر جس کی طرف کر کے نگاہیں پھیر لیتے ہو
قیامت تک پھر اس دل کی پریشانی نہیں جاتی
نہ پوچھو تجرباتِ زندگانی،۔ چوٹ لگتی ہے
نظر اب دوست اور دشمن کی پہچانی نہیں جاتی
زمانہ کروٹوں پہ کروٹیں لیتا ہے،۔ اور ملاؔ
تری اب تک وہ خواب آور غزل خوانی نہیں جاتی
آنند نرائن ملا
No comments:
Post a Comment