ہم نے بھی کی تھیں کوششیں، ہم نہ تمہیں بھلا سکے
کوئی کمی ہمیں میں تھی، یاد تمہیں نہ آ سکے
زیست کی راحتوں میں بھی غم نہ ترا بھلا سکے
لب سے ہنسے ہزار بار دل سے نہ مسکرا سکے
نام ترا کیا ہے نقش میں نے اسی دعا کے ساتھ
حسرتِ عشق پر ہمیں صبر کبھی نہ آ سکا
دل کو تو غم بنا لیا، غم کو نہ دل بنا سکے
قفل سا اک زباں پہ تھا آنکھ میں کچھ نمی سی تھی
ہوش نہیں کہ دل کا بھید کہہ گئے یا چھپا سکے
اپنے ہی شوق کی خطا، اپنی ہی آنکھ کا قصور
وہ تو اٹھا چکا نقاب، ہم نہ نظر اٹھا سکے
اور تو تیرے عشق میں ہم نے کوئی کمی نہ کی
اتنی خطا ضرور کی ہنس کے نہ چوٹ کھا سکے
عشق اگر کیا تو دیکھ، عشق کی آبرو نہ جاۓ
ہوش نہ کھو، جو کھو تو یوں ہوش میں پھر نہ آ سکے
ملاؔ ارے یہ کیا کیا، عشق اور اس صنم سے عشق
آگ لگا تو وہ لگا،۔ جس کو کبھی بجھا سکے
آنند نرائن ملا
No comments:
Post a Comment