Saturday, 12 September 2020

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا
دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا
اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا
ورنہ ترا قصور نہ کرنا قصور تھا
تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں
تم پاس آ گئے تو الم بھی سرور تھا
اس اک نظر کے بزم میں قصے بنے ہزار
اتنا سمجھ سکا جسے جتنا شعور تھا
اک درس تھی کسی کی یہ فنکارئ نگاہ
کوئی نہ زد میں تھا نہ کوئی زد سے دور تھا
بس دیکھنے ہی میں تھیں نگاہیں کسی کی تلخ
شیریں سا اک پیام بھی بین السطور تھا
پیتے تو ہم نے شیخ کو دیکھا نہیں، مگر
نکلا جو میکدے سے تو چہرے پہ نور تھا
ملا کا مسجدوں میں تو ہم نے سنا نہ نام
ذکر اس کا میکدوں میں مگر دور دور تھا

آنند نرائن ملا

No comments:

Post a Comment