دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا
دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا
اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا
ورنہ ترا قصور نہ کرنا قصور تھا
تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں
اس اک نظر کے بزم میں قصے بنے ہزار
اتنا سمجھ سکا جسے جتنا شعور تھا
اک درس تھی کسی کی یہ فنکارئ نگاہ
کوئی نہ زد میں تھا نہ کوئی زد سے دور تھا
بس دیکھنے ہی میں تھیں نگاہیں کسی کی تلخ
شیریں سا اک پیام بھی بین السطور تھا
پیتے تو ہم نے شیخ کو دیکھا نہیں، مگر
نکلا جو میکدے سے تو چہرے پہ نور تھا
ملا کا مسجدوں میں تو ہم نے سنا نہ نام
ذکر اس کا میکدوں میں مگر دور دور تھا
آنند نرائن ملا
No comments:
Post a Comment