Wednesday, 21 April 2021

کب سے الجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم

 کب سے اُلجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم

دو اشک پونچھنے کو تِری آستیں سے ہم

ہو گا تمہارا نام ہی عنوان ہر ورق

اوراق زندگی کو الٹ دیں کہیں سے ہم

سنگِ درِ عدو پہ ہماری جبیں نہیں

یہ سجدے کر رہے ہیں تمہاری جبیں سے ہم

دہرائی جا سکے گی نہ اب داستان عشق

کچھ وہ کہیں سے بھول گئے ہیں کہیں سے ہم

بسمل حریمِ حسن میں ہیں کامیاب شوق

جوشِ شباب و رنگِ رخِ آتشیں سے ہم


بسمل سعیدی

No comments:

Post a Comment