Tuesday, 18 May 2021

شراب عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے

 شرابِ عشق میں کیا جانے کیا تاثیر ہوتی ہے

کہیں یہ زہر ہوتی ہے، کہیں اکسیر ہوتی ہے

نہ مفہوم اس کا فُرقت ہے نہ منشا وصل ہے اس کا

محبت اصل میں اک خواب، خود تعبیر ہوتی ہے

جدا ہو کر اسی میں جذب ہو جاتی ہے پھر اک دن

محبت آفتابِ حُسن کی تنویر ہوتی ہے

مِرا ذوق نظر ہو یا تِرا فیضِ تصور ہو

مِرے آئینے میں اکثر تِری تصویر ہوتی ہے

شکایت بھی محبت ہی میں داخل ہے مگر بسمل

محبت بے نیازِ شکوۂ تقدیر ہوتی ہے


بسمل سعیدی

No comments:

Post a Comment