Tuesday, 13 September 2022

تیرے نام کا کلمہ پڑھنا مجھ پر فرض ہوا

 ڈھلتی شب ہے

آنکھوں میں بکھرے تھکن کے بادل 

سمٹ رہے ہیں

باہرافسردہ ہوا 

سرد قدموں سے چل رہی ہے

اور دل آنگن میں

رَت جگے کے لیے

تیری یادوں نے دھرنا دے کر

نیند سے میرا ہاتھ چُھڑا کر

پہلو میں یوں بیٹھا لیا ہے

جیسے تیرے نام کا کلمہ پڑھنا 

مجھ پر فرض ہوا ہو 

پیار نبھانا قرض ہوا ہو


سباس گل

No comments:

Post a Comment