ڈھلتی شب ہے
آنکھوں میں بکھرے تھکن کے بادل
سمٹ رہے ہیں
باہرافسردہ ہوا
سرد قدموں سے چل رہی ہے
اور دل آنگن میں
رَت جگے کے لیے
تیری یادوں نے دھرنا دے کر
نیند سے میرا ہاتھ چُھڑا کر
پہلو میں یوں بیٹھا لیا ہے
جیسے تیرے نام کا کلمہ پڑھنا
مجھ پر فرض ہوا ہو
پیار نبھانا قرض ہوا ہو
سباس گل
No comments:
Post a Comment