کوئی طبیب ہے نہ مسیحائے عشق ہے
خود روگ عشق ہی کا مداوائے عشق ہے
دریائے عشق ہے کہیں صحرائے عشق ہے
سلطان! اب یہی تِری دنیائے عشق ہے
جس کو بھی دیکھئے یہاں شیدائےعشق ہے
ہر ایک کو مگر کہاں یارائے عشق ہے
میں نے کہا؛ یہ کیسے بنائی ہے کائنات
اس نے کہا؛ یہ سارا تماشائے عشق ہے
کیا پوچھتے ہو کربلا والوں کے عشق کا
ان کا تو شیرخوار بھی مولائے عشق ہے
نا آشنائے عشق تو حیوان ہے میاں
انسان ہے وہی جو شناسائے عشق ہے
اس کو اگر ہے عشق میں دنیا کا خوف بھی
چپکے سے میرے کان میں کہہ جائے عشق ہے
سلطان! اک مقام نہیں اہلِ عشق کا
سارا جہان ان کے لیے جائے عشق ہے
سلطان محمود
No comments:
Post a Comment