Wednesday, 6 April 2022

کوئی طبیب ہے نہ مسیحائے عشق ہے

 کوئی طبیب ہے نہ مسیحائے عشق ہے

خود روگ عشق ہی کا مداوائے عشق ہے

دریائے عشق ہے کہیں صحرائے عشق ہے

سلطان! اب یہی تِری دنیائے عشق ہے

جس کو بھی دیکھئے یہاں شیدائےعشق ہے

ہر ایک کو مگر کہاں یارائے عشق ہے

میں نے کہا؛ یہ کیسے بنائی ہے کائنات

اس نے کہا؛ یہ سارا تماشائے عشق ہے

کیا پوچھتے ہو کربلا والوں کے عشق کا

ان کا تو شیرخوار بھی مولائے عشق ہے

نا آشنائے عشق تو حیوان ہے میاں

انسان ہے وہی جو شناسائے عشق ہے

اس کو اگر ہے عشق میں دنیا کا خوف بھی

چپکے سے میرے کان میں کہہ جائے عشق ہے

سلطان! اک مقام نہیں اہلِ عشق کا

سارا جہان ان کے لیے جائے عشق ہے


سلطان محمود

No comments:

Post a Comment