Wednesday, 6 April 2022

ہر وار ان کا سہتا رہوں اور چپ رہوں

 ہر وار ان کا سہتا رہوں، اور چپ رہوں

وہ چاہتے ہیں اف نہ کروں اور چپ رہوں

ظالم یہ چاہتے ہیں کہ سی لوں میں اپنے ہونٹ

زخموں سے چور چور رہوں اور چپ رہوں

مکر و فریب، قتل، غبن، ظلم، بے حسی

ان سب کے درمیان رہوں اور چپ رہوں

سوچا ہے بس دکھاؤں زمانے کو آئینہ

اپنے مشاہدات لکھوں، اور چپ رہوں

اک وہ کہ لمحہ لمحہ مجھے دے رہے ہیں زہر

اک میں کہ گھونٹ گھونٹ پیوں اور چپ رہوں

کھل ہی گیا بھرم جو تِری پارسائی کا

کیسے اب آنکھ بند رکھوں اور چپ رہوں


ندیم اختر

No comments:

Post a Comment