Wednesday, 6 April 2022

تمہاری یاد تمہارا خیال کافی ہے

تمہاری یاد، تمہارا خیال کافی ہے

سکونِ دل کے لیے اور سب اضافی ہے

اب اس سے ترکِ تعلق کے بعد کیا ملنا

یہ جُرم وہ ہے جو نا قابلِ تلافی ہے

وصالِ یار کی حسرت نکال دی دل سے

سُنا ہے میں نے کہ یہ عشق کے منافی ہے

وہ بیوفا مجھے کہتا ہے اور میں اس کو

یہ مسئلہ بھی مِرے بیچ اختلافی ہے

بجا کہ میں ہوں سزاوار سب کی نظروں میں

پر ان کے دل میں تو اک گوشۂ معافی ہے

قسم تو کھائی ہے رضوان اس نے ملنے کی

یقیں ہو کیا کہ یہ لہجہ بھی انحرافی ہے


ڈاکٹر رضوان الرضا

No comments:

Post a Comment