Saturday, 17 September 2022

جو ترے در پر پڑے رہتے ہیں

 جو تِرے در پر پڑے رہتے ہیں

مثلِ کہسار کھڑے رہتے ہیں

دل سمجھ جاتا ہے سمجھانے سے

اشک ہی ضد پہ اڑے رہتے ہیں

ہجر زیور ہے مِری آنکھوں کا

موتی پلکوں پہ جَڑے رہتے ہیں

اس کی بس ایک جھلک کی خاطر

لوگ رستوں پہ کھڑے رہتے ہیں

سامنا کیسے کریں دشمن کا

ہم تو آپس میں لڑے رہتے ہیں


سلطان محمود

No comments:

Post a Comment