Saturday, 17 September 2022

چھپا لینا سبھی سے کہہ نہ دینا

 چھپا لینا، سبھی سے کہہ نہ دینا

میری باتیں کسی سے کہہ نہ دینا

کہیں پِٹ جائے نہ جگ میں ڈھنڈورا

کسی اعلانچی سے کہہ نہ دینا

چکانی ہو گی جو کھِلنے کی قیمت

چمن والو! کلی سے کہہ نہ دینا

جو طے انجام ہو گا، آخرِ کار

وہ تب کہنا، ابھی سے کہہ نہ دینا

صبح دم شمع کو بجھنا پڑے گا

حقیقت، شام ہی سے کہہ نہ دینا


مسعود قاضی

No comments:

Post a Comment