Saturday, 17 September 2022

مر جانے کو جی چاہتا ہے

 مر جانے کو جی چاہتا ہے


کورے کاغذ پر

مسلسل ہاتھ پھیرنے سے

اس میں لکیریں نہیں اُگتیں

لفظ نہیں پیدا ہوتے

پتھر کی سخت دیواروں کو

تکتے رہنے سے

ان میں دریچے نہیں کھلتے

کاغذ بے داغ ہی رہتا ہے

دیواریں زنداں کی طرح

سخت اور بے جان ہی رہتی ہیں


خلیل الرحمٰن مامون 

No comments:

Post a Comment