مر جانے کو جی چاہتا ہے
کورے کاغذ پر
مسلسل ہاتھ پھیرنے سے
اس میں لکیریں نہیں اُگتیں
لفظ نہیں پیدا ہوتے
پتھر کی سخت دیواروں کو
تکتے رہنے سے
ان میں دریچے نہیں کھلتے
کاغذ بے داغ ہی رہتا ہے
دیواریں زنداں کی طرح
سخت اور بے جان ہی رہتی ہیں
خلیل الرحمٰن مامون
No comments:
Post a Comment