گو جام میرا زہر سے لبریز بہت ہے
کیا جانیے کیوں پینے سے پرہیز بہت ہے
شو کیس میں رکھا ہوا عورت کا جو بت ہے
گونگا ہی سہی پھر بھی دلآویز بہت ہے
اشعار کے پھولوں سے لدی شاخِ تمنا
کھل جاتا ہے تنہائی میں ملبوس کی مانند
وہ رشکِ گلِ تر کی طرح کم آمیز بہت ہے
موسم کا تقاضا ہے کہ لذت کا بدن چوم
خواہش کے درختوں میں ہوا تیز بہت ہے
آنکھوں میں لیے پھرتا ہے خوابوں کے جزیرے
وہ شاعرِ آشفتہ جو شب خیز بہت ہے
کرشن ادیب
No comments:
Post a Comment