Friday, 11 December 2015

گو جام مرا زہر سے لبریز بہت ہے

گو جام میرا زہر سے لبریز بہت ہے
کیا جانیے کیوں پینے سے پرہیز بہت ہے
شو کیس میں رکھا ہوا عورت کا جو بت ہے
گونگا ہی سہی پھر بھی دلآویز بہت ہے
اشعار کے پھولوں سے لدی شاخِ تمنا
مٹی میرے احساس کی زرخیز بہت ہے
کھل جاتا ہے تنہائی میں ملبوس کی مانند
وہ رشکِ گلِ تر کی طرح کم آمیز بہت ہے
موسم کا تقاضا ہے کہ لذت کا بدن چوم
خواہش کے درختوں میں ہوا تیز بہت ہے
آنکھوں میں لیے پھرتا ہے خوابوں کے جزیرے
وہ شاعرِ آشفتہ جو شب خیز بہت ہے

کرشن ادیب

No comments:

Post a Comment