Tuesday, 17 August 2021

تشنگی زندہ حوالوں میں بدل جاتی ہے

 تشنگی زندہ حوالوں میں بدل جاتی ہے 

مشک جب پاؤں کے چھالوں میں بدل جاتی ہے 

ہم سے اک بار ملو گے تو کھُلے گا تم پر

تیرگی کیسے اجالوں میں بدل جاتی ہے 

بات جو اہلِ صداقت کی زباں سے نکلے

رفتہ رفتہ وہ مثالوں میں بدل جاتی ہے

عشق کی موج کو لفظوں کی ضرورت ہی نہیں

یہ خیالوں ہی خیالوں میں بدل جاتی ہے

جان جینے کی روایت سے بغاوت کر کے

زندگی کتنے سوالوں میں بدل جاتی ہے


جان کاشمیری

No comments:

Post a Comment