عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یا شفیع الاممﷺ، اب نگاہِ کرم
دیکھ اُمت کی کشتی ہے منجدھار میں
چار سُو غم کے طوفاں نے گھیرا ہوا
دل لرزتے ہوئے، ہاتھ جوڑے ہوئے
آئے چوکھٹ پہ نادم گنہگار ہیں
کیسا پانی فلک سے برسنے لگا
ڈھور ڈنگر مویشی یہ مال و متاع
گھر کا سامان سب کچھ بہا لے گیا
عمر بھر میں جو تنکے اکٹھے کیے
آنکھ کے سامنے نذرِ طوفان ہیں
اک طرف صاف کرتے ہیں اشکوں کو ہم
اک طرف اپنے لاشے اٹھائے ہوئے
ہم کفن لے کے ہاتھوں میں پھرتے رہے
اور قبریں تلک نہ میسر ہوئیں
جن کو لاڈوں سے پالا تھا بچے وہی
کیسی لہریں تھیں جو چھین کر لے گئیں
دیکھتے رہ گئے کچھ بھی کر نہ سکے
اک قیامت بپا ہے زمیں پر مِری
ایک بستی بچائیں تو دُوجی گِرے
ہم جو دیوار پکڑیں تو چھت آ گِرے
ہے کدھر میری بستی وہ میلے کہاں
صرف ملبہ ہے پانی کے ریلے یہاں
کیسے خوددار ہاتھوں کو پھیلائیں گے
اب جیۓ بھی تو اندر سے مر جائیں گے
میرے آقاﷺ بہت ہم گناہگار ہیں
آپؐ ہی اپنی امت کے غمخوار ہیں
صدقۂ فاطمہؑ،۔ صدقۂ علیؑ
صدقہ حسنینؑ کا، صدقہ قرآن کا
صدقہ ازواجؑ کا صدقہ اصحاب کا
یا نبیﷺ آپ رحمت جو فرمائیں گے
سارے بگڑے ہوئے کام بن جائیں گے
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment