Monday, 5 December 2022

جس کو دیکھو کال یا تصویر کے چکر میں ہے

 جس کو دیکھو کال یا تصویر کے چکر میں ہے

عشق بھی تعویذ والے پیر کے چکر میں ہے

ہوش میں مجنوں ملے گا جھنگ کے بازار میں

چھوڑ کر لیلیٰ کو اب وہ ہیر کے چکر میں ہے

اتنا بھی آساں نہیں ہے دل کسی کا جیتنا

پوچھ لے انڈیا سے جو کشمیر کے چکر میں ہے

کل تلک شاعر تھا جو گوشہ نشیں، خاموش سا

فیس بک پر آج کل تشہیر کے چکر میں ہے

حال وہ سنتا نہیں ہے مختصر الفاظ میں

اور یہ معصوم دل تفسیر کے چکر میں ہے

رات پھر روتا ہوا وہ آنکھ میں ہی سو گیا

اک ادھورا خواب جو تعبیر کے چکر میں ہے

وقت سے پہلے ملیں جو تلخیاں مقدور تھیں

زندگی کی ہر خوشی تاخیر کے چکر میں ہے


فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment