Monday, 5 December 2022

بنا ہوا ہوں غلط پھر بھی مت ادھیڑ مجھے

 بُنا ہوا ہوں غلط، پھر بھی مت اُدھیڑ مجھے

میں تیرا خواب نہیں، کام ہوں؛ نبیڑ مجھے

میں کائنات ہوں تیری، اگر تُو پھیلنے دے

میں اختیار میں ہوں بھی تو مت سُکیڑ مجھے

ہر ایک شخص، الگ طرح کی ہے موسیقی

تلک کامود ہوں، رونا ہو تب ہی چھیڑ مجھے

ہمارے ایک سے دُکھ ہیں، ہمی سمجھتے ہیں

سُنا رہا ہوں میں پیڑوں کو اور پیڑ مجھے

کسی کا ہجر جو سر پر سوار ہے میرے

لگا کے رکھتا ہے ہر دو قدم پہ ایڑ مجھے


عبدالوہاب عبدل

تلک کامود= ساون کے موسم کا دوپہر کے وقت کا اداسی بھرا راگ

No comments:

Post a Comment