Monday, 5 December 2022

اپنے خوابوں کی زمیں جھوم رہی ہے دیکھو

 گہرے بندھن


اپنے خوابوں کی زمیں جھوم رہی ہے دیکھو

ہم قدم گرم سفر دیکھ کے ہم کو تم کو

کتنی آوازیں بلاتی ہیں

چلے آؤ یہاں

اس اندھیرے کے سفر میں جو ہے احساس زیاں

لب پہ اقرار وفا، روح میں انکار نہاں

آؤ خوابوں کی زمیں تک تو چلو پھر دیکھو

بے سبب دل میں یہ وہموں کے ابلتے طوفاں

سر اٹھائیں گے نہ وجہ تصادم ہوں گے

یہ جو ہم تم ہیں، وہاں ایسے نہ ہم تم ہوں گے


شہاب جعفری

No comments:

Post a Comment