اپنے اشکوں کی یہ برسات کسے پیش کروں
شب فرقت کی یہ سوغات کسے پیش کروں
غمِ دوراں کی شکایت غمِ جاناں کا گِلا
اف یہ پیچیدہ خیالات کسے پیش کروں
کون پوچھے گا مِرے حال فسردہ کا مزاج
غمِ دوراں کی حکایات کسے پیش کروں
زیست کو تلخ بناتے ہیں جو ہر دم میری
الجھے الجھے وہ سوالات کسے پیش کروں
منتشر ہو گیا شیرازۂ اُلفت افسوس
دل کے بکھرے ہوئے ذرات کسے پیش کروں
غم کی تشہیر سے ہو جاتی ہے توہینِ وفا
اس اذیت کے حسابات کسے پیش کروں
چن کے اشعار غزل کے میں سناؤں کس کو
دل سے اُمڈے ہوئے نغمات کسے پیش کروں
آج بھی وہ تو نظر آتے ہیں مائل بہ ستم
اور پھر شوق کے جذبات کسے پیش کروں
نظر برنی
No comments:
Post a Comment