Saturday, 8 May 2021

رفیق دوست محب مجھ کو شاق سب ہی تھے

 رفیق دوست محب مجھ کو شاق سب ہی تھے

اگرچہ کہنے کو یہ ہم مذاق سب ہی تھے

میں امتحان کی کاپی کو سادہ چھوڑ آیا

دماغ میں تو سیاق و سباق سب ہی تھے

تمام رات رہا دل میں حبس کا منظر

کھُلے ہوئے تو درِ اشتیاق سب ہی تھے

اسی محل سے تھی وابستہ شہر کی عظمت

شکستہ یوں تو در و بام و طاق سب ہی تھے

ہمارا گاؤں فسادوں کی زد سے دور رہا

اگرچہ لوگ شرارت میں طاق سب ہی تھے


اسلم حنیف

No comments:

Post a Comment