نظر نظر سے ملا کر شراب پیتے ہیں
ہم ان کو پاس بیٹھا کر شراب پیتے ہیں
اس لیے تو اندھیرا ہے میکدے میں بہت
یہاں گھروں کو جلا کر شراب پیتے ہیں
ہمیں تمہارے سوا کچھ نظر نہیں آتا
تمہیں نظر میں سجا کر شراب پیتے ہیں
ان کے حصے میں آتی ہے پیاس ہی آخر
جو دوسروں کو پلا کر شراب پیتے ہیں
تسنیم فاروقی بھوپالی
No comments:
Post a Comment