Saturday, 8 May 2021

نظر نظر سے ملا کر شراب پیتے ہیں

 نظر نظر سے ملا کر شراب پیتے ہیں

ہم ان کو پاس بیٹھا کر شراب پیتے ہیں

اس لیے تو اندھیرا ہے میکدے میں بہت

یہاں گھروں کو جلا کر شراب پیتے ہیں

ہمیں تمہارے سوا کچھ نظر نہیں آتا

تمہیں نظر میں سجا کر شراب پیتے ہیں

ان کے حصے میں آتی ہے پیاس ہی آخر

جو دوسروں کو پلا کر شراب پیتے ہیں


تسنیم فاروقی بھوپالی

No comments:

Post a Comment