ہر کسی کو نہ آزمایا کرو
میں جو کہتا ہوں مان جایا کرو
دل میں کافی جگہ بچی ہے ابھی
تم نئے زخم ڈھونڈ لایا کرو
پھول آہٹ سے سہم جاتے ہیں
تتلیو🦋 ننگے پاؤں آیا کرو
آؤ، دل کے چراغ سے کھیلیں
میں جلاؤں گا،. تم بجھایا کرو
بے وفائی کی داستاں اے دوست
تم نے لکھی ہے، تم سنایا کرو
لوگ گُستاخ ہو چلے بلراج
تم بھی اپنی ہنسی اڑایا کرو
بلراج بخشی
No comments:
Post a Comment