Wednesday, 12 October 2022

ہر کسی کو نہ آزمایا کرو

 ہر کسی کو نہ آزمایا کرو

میں جو کہتا ہوں مان جایا کرو

دل میں کافی جگہ بچی ہے ابھی

تم نئے زخم ڈھونڈ لایا کرو

پھول آہٹ سے سہم جاتے ہیں

تتلیو🦋 ننگے پاؤں آیا کرو

آؤ، دل کے چراغ سے کھیلیں

میں جلاؤں گا،. تم بجھایا کرو

بے وفائی کی داستاں اے دوست

تم نے لکھی ہے، تم سنایا کرو

لوگ گُستاخ ہو چلے بلراج

تم بھی اپنی ہنسی اڑایا کرو


بلراج بخشی

No comments:

Post a Comment