دیکھیں کسی سے جھوٹی محبت نہ کیجیے
مر جائیے کوئی ایسی شرارت نہ کیجیے
ہونے لگا ہے خود پہ ہمیں اور ہی گماں
الله!! اس قدر بھی محبت نہ کیجیے
مانا کہ دل ہے چیز بہت قیمتی،۔ مگر
لگ جائے نہ کہیں نظر حسن و جمال کو
یوں اپنی اب اس قدر بھی زیارت نہ کیجیے
بدنامیوں کے دِیپ نہ جلنے لگیں حضور
ہم سے تعلقات کی شہرت نہ کیجیے
ہم کو غمِ فراق کی عادت سی ہو گئی
اب آپ التفات کی زحمت نہ کیجیے
وہ خود تو کھیلتے ہیں مرے دل سے رات دن
اور مجھ کو یہ قسم کہ شرارت نہ کیجیے
اختر سروش
No comments:
Post a Comment