کیجیے پیار چاہتوں کے عِوَض
دکھ نہ دیجے رقابتوں کے عوض
کیا خبر تھی،۔ کہ ٹوٹ جائیں گے
خواب دوری کے قربتوں کے عوض
خار دل میں چبھو گیا کوئی
راز دل کہہ گئیں تری آنکھیں
میری آنکھوں سے رابطوں کے عوض
چڑھ گئیں بھینٹ کتنی باراتیں
بے سر و پا روایتوں کے عوض
آ گیا بال شیشۂ دل میں
دل سے دل کو شکایتوں کے عوض
آخرِ کار دل نے مانی ہار
جانے کتنی وضاحتوں کے عوض
رنگ چہروں سے اڑ رہے ہیں سروشؔ
چار دن کی رفاقتوں کے عوض
اختر سروش
No comments:
Post a Comment