دوستی کے روپ میں دھوکا مِلا
جو تبسم بھی ملا،۔ جھوٹا ملا
دوستی کے زخم جس نے کھائے تھے
دشمنی کی لاش پر روتا ملا
جوڑتا تھا قلب جو ٹوٹے ہوئے
جو خود اپنی ذات میں اک بزم تھا
وہ مجھے جب بھی ملام تنہا ملا
جاگتا تھا جو کسی کے واسطے
وہ بھی آخر ایک دن سوتا ملا
کس سے بولیں کس سے حالِ دل کہیں
ہر کوئی اپنا ہی گرویدہ ملا
شہر کیا ہے ایک بزمِ کارزار
ہر کوئی حالات سے لڑتا ملا
اختر سروش
No comments:
Post a Comment