Sunday, 5 December 2021

چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے

 چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے

یہ موسم بار بار آئے نہ آئے

ہم اس کی راہ دیکھیں گے ہمیشہ

وہ جانِ انتظار آئے، نہ آئے

یہ سوچا ہے کہ اس کو بھول جائیں

اب اس دل کو قرار آئے نہ آئے

گلابوں کی طرح تم تازہ رہنا

زمانے میں بہار آئے نہ آئے

ضمیر اس زندگی سے کیوں خفا ہو

اسے پھر تم پہ پیار آئے نہ آئے


ضمیر کاظمی

No comments:

Post a Comment