میں اس انجمن کو سجانے چلی ہوں
نئی ایک دنیا بسانے چلی ہوں
جسے آزمایا کئی بار میں نے
عبث پھر اُسے آزمانے چلی ہوں
یقیناً کوئی اس میں خوبی تو ہو گی
جو روٹھے ہوئے کو منانے چلی ہوں
زمانے میں اہلِ نظر اور بھی ہیں
یہ احساس اُس کو دِلانے چلی ہوں
نیا تجربہ ہے یہ روبینہ میرا
میں طُوفاں میں ناؤ بہانے چلی ہوں
روبینہ میر
No comments:
Post a Comment