Sunday, 5 December 2021

کون سی دیواروں سے میں ٹکرایا نہ

 کون سی دیواروں سے میں ٹکرایا نہ

وقت سے آگے لیکن میں جا پایا نہ

سارے عقیدے حبس کے معبد ہیں جن میں

کبھی ہوا کا جھونکا تک بھی آیا نہ

اس کی یاد میں ساری عمر گنوا بیٹھا

میرا کبھی خیال بھی جس کو آیا نہ

اس نے جب سناٹے کی دیوار چنی

تم نے بھی تو اس دم شور مچایا نہ

جانے اس کے لہجے میں کیا جادو تھا

کسی نے اس کی باتوں کو جھٹلایا نہ

بس اک کعبے کا پتھر ہی بچا فقیہ

ورنہ، مجھ پر کون سا پتھر آیا نہ


احمد فقیہ

No comments:

Post a Comment