Sunday, 5 December 2021

یہ سمندر کی مہربانی تھی

 سمندر کی مہربانی


یہ سمندر کی مہربانی تھی

تم نے ساحل کو چھو کے دیکھ لیا

اب ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی

موج در موج لوٹتے ہو تم

دھوپ میں اختلاط کرتے ہو

اور ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی

کوئی بھی تم سے کچھ نہیں کہتا

سب سمندر کی مہربانی ہے

جاؤ، بارش کا اہتمام کرو

ابر آوارہ سے پتنگ بناؤ

اب تمہارے ہیں خیمہ و خرگاہ

دور دو بادباں چمکتے ہیں

کشتیوں میں دِیے جلے ہوں گے

کوئی ساحل پہ آئے گا اس بار

تم نے سوتے میں پھر سوال کیا

کون ساحل پہ آئے گا اس بار

آؤ، دریا نشین ہو جائیں

ہم نے ساحل کو چھو کے دیکھ لیا


انور خالد

No comments:

Post a Comment