Tuesday, 6 April 2021

منزلوں تک منزلوں کی آرزو رہ جائے گی

 منزلوں تک منزلوں کی آرزو رہ جائے گی

کارواں تھک جائیں پھر بھی جستجو رہ جائے گی

اے دلِ ناداں! تجھے بھی چاہیے پاسِ ادب

وہ جو روٹھے تو ادھوری گفتگو رہ جائے گی

غیر کے آنے نہ آنے سے بھلا کیا فائدہ

تم جو آ جاؤ تو میری آبرو رہ جائے گی

اس بھری محفل میں تیری ایک میں ہی تشنہ لب

ساقیا!! کیا خواہشِ جام و سبُو رہ جائے گی

ہم اگر محروم ہوں گے اہلِ فن کی داد سے

شعر کہنے کی کسے پھر آرزو رہ جائے گی


جمیل مرصع پوری

No comments:

Post a Comment