Tuesday, 6 April 2021

قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ

 قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ

ایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظ

طرفہ آفت میں پھنسی آتی ہے جان واعظ

کون مے خانہ میں تھا مرتبہ دان واعظ

کیوں نہ مینائے مئے ناب پٹک دوں سر پر

عیش جب تلخ ہو سن سن کے بیان واعظ

اس طرح پند و نصیحت کی اٹھائی تمہید

آج ساقی پہ ہوا مجھ کو گمان واعظ

تیزیٔ بادہ کجا،۔ تلخیٔ گفتار کجا

کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ

فصل گل آتے ہی مے خانہ میں اک بھیڑ ہوئی

نہ سنی ایک بھی رندوں نے فغان واعظ

پھر در پیر خرابات پہ بیٹھا ہے حبیب

یہ تو آیا تھا ابھی سن کے بیان واعظ


حبیب موسوی

No comments:

Post a Comment