Thursday, 8 April 2021

منفرد جس کا لب و لہجہ لگا

 منفرد جس کا لب و لہجہ لگا

وہ ہمارا ہی نمائندہ لگا

جب سے اپنے گھر میں آئینہ

غیر کا چہرہ بھی کچھ اچھا لگا

رخ بدلنا کیا کوئی آسان ہے

ایک چہرہ تھا مگر کیا کیا لگا

بات کھل کر ہی کہی جائے یہ کیا

کچھ لب و لہجہ سے اندازہ لگا

اپنے اپنے زاوئیے کی بات ہے

میں بھری محفل میں بھی تنہا لگا

جیتے جی بھاتا نہ تھا اک انکھ بھی

مر گیا تو سب کو بے چارہ لگا

میں نے جب ان کو کھنگالا ہے جمیل

تھا تو وہ پیاسا،۔ سمندر سا لگا


جمیل مرصع پوری

No comments:

Post a Comment