Monday, 11 July 2022

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی

 بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی 

ابھی کچھ دن یہ سوغاتیں رہیں گی 

تڑپ باقی رہے گی جھوٹ ہے یہ 

ملیں گے ہم ملاقاتیں رہیں گی 

نظر میں چہرہ کوئی اور ہو گا 

گلے میں جھولتی بانہیں رہیں گی 

سفر میں بیت جانا ہے دنوں کو 

مسلسل جاگتی راتیں رہیں گی 

زبانیں نطق سے محروم ہوں گی 

صحیفوں میں مناجاتیں رہیں گی 

مناظر دھند میں چھپ جائیں گے سب 

خلا میں گھورتی آنکھیں رہیں گی 

کہاں تک ساتھ دیں گے شہر والے 

کہاں تک قید آوازیں رہیں گی


آشفتہ چنگیزی

No comments:

Post a Comment