Monday, 11 July 2022

یہ شہر شہر عجب قحط آب و دانہ پڑا

یہ شہر شہر عجب قحط آب و دانہ پڑا

چھتوں پہ بیٹھے پرندوں سے منہ چھپانا پڑا

تھی اس کے جسم پہ چھینی گئی ردا کی شکن

تماشا کرنا پڑا،۔ آئینہ دکھانا پڑا

لکیر کھینچی تھی اس نے تعلقات کے بیچ

مجھے بھی اپنے لیے دائرہ بنانا پڑا

بنا رہا تھا میں کاغذ پہ گھر کی دیواریں

پھر اس کے بعد وہ کاغذ مجھے جلانا پڑا

ممانعت تھی خبردار اب جو رویا کوئی

جو رو رہے تھے انہیں قہقہہ لگانا پڑا

فراتِ عصر پہ قبضہ تھا اور بچوں کو

وہ پیاس تھی کہ مجھے زہر تک پلانا پڑا

عجب تعلقِ خاطر تھا دو دلوں کے بیچ

نہ کچھ گھٹانا پڑا اور نہ کچھ بڑھانا پڑا

پڑی ہوئی تھی گرہ کی طرح مِری تاریخ

کُھلی تو پھر مجھے کیا کیا نہیں بھلانا پڑا

میں سب سے ہٹ کے چلا اور نکل گیا آگے

پھر اس کے بعد جو پیچھے مِرے زمانہ پڑا


جاوید صبا

No comments:

Post a Comment