Monday, 11 July 2022

میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیں

 اعتماد


میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیں

میری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گی

مشکلیں راہ محبت میں نہ حائل ہوں گی


میں نے سوچا تھا کہ اس بار نگاہوں کے سلام

آئیں گے اور بہ انداز دگر آئیں گے

پھول ہی پھول فضاؤں میں بکھر جائیں گے


میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری سانسیں

میری بہکی ہوئی سانسوں سے لپٹ جائیں گی

بزم احساس کی تاریکیاں چھٹ جائیں گی


میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہارا پیکر

میرے بے خواب دریچوں کو سلا جائے گا

میرے کمرے کو سلیقے سے سجا جائے گا


میں نے سوچا تھا کہ اس بار مرے آنگن میں

رنگ بکھریں گے امیدوں کی دھنک ٹوٹے گی

میری تنہائی کے عارض پہ شفق پھوٹے گی


میں نے سوچا تھا کہ اس بار بایں صورت حال

میرے دروازے پہ شہنائیاں سب دیکھیں گے

جو کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا اب دیکھیں گے


میں نے سوچا تھا کہ اس بار محبت کے لیے

گنگناتے ہوئے جذبوں کی برات آئے گی

مدتوں بعد تمناؤں کی رات آئے گی


تم مرے عشق کی تقدیر بنو گی اس بار

جیت جائے گا مرا جوش جنوں سوچا تھا

اور اب سوچ رہا ہوں کہ یہ کیوں سوچا تھا


کفیل آزر

No comments:

Post a Comment